آپ کو آن لائن کون دیکھ رہا ہے؟ سائبر کرائم کی روک تھام کے پانچ اقدامات [وڈیو]

لوگ اپنی ملازمت کے کاموں سے لے کر بنکوں سے لین دین اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق، تمام معاملات کے لیے آن لائن ذرائع کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے کے مقابلے اب کہیں زیادہ معلومات کا اُن سائبر مجرموں کے ہاتھ لگنے کا احتمال ہے جو آپ کی شناخت چرا سکتے ہیں، آپ کے بارے میں معلومات کو “رینسم ویئر” کے استعمال سے یرغمال بنا سکتے ہیں، یا آپ کا بنک اکاوًنٹ خالی کر سکتے ہیں۔

امریکی حکومت نے سرکاری کمپیوٹر نیٹ ورکوں کو اُن لوگوں سے محفوظ رکھنے کے لیے گزشتہ دس سالوں میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں جو معلومات چرانا چاہتے ہیں۔ یہ ایک “بہت بڑا مسئلہ ہے۔” یہ بات صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے کی خاطر حکومت کی پرانی ٹکنالوجی کو جدید بنانے اور محفوظ رکھنے کے لیے تشکیل دی گئی، امریکن ٹکنالوجی کونسل کے ایک حالیہ اجلاس میں کہی۔

سائبر سکیورٹی محض حکومتوں کا مسئلہ ہی نہیں۔ ذیل میں وہ پانچ گُر بتائے جا رہے ہیں جن سے آپ آن لائن اپنی حفاظت کر سکتے ہیں:

Illustration of hands using smartphone

– ای میل استعمال کرتے ہوئے مثبت شک سے کام لیں

اگر آپ ای میل بھیجنے والے کو نہیں جانتے تو ای میل میں دیئے گئے لنکوں پر کلِک نہ کریں۔ لوگوں کو دھوکہ دے کر ہیکر ایسے لنکوں پر کلِک کرواتے ہیں جو حقیقی معلوم ہوتے دیتے ہیں۔ اصل میں یہ لِنک یا تو نقصان پہنچانے والے سوفٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں یا اُن ویب پیجوں پر لے جاتے ہیں جو آپ کی نجی معلومات چرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہیکر آپ کو کوئی ایسی ای میل بھیجیں گے جو ایسے دکھائی دے گی جیسے اسے آپ کے پسندیدہ سٹور نے بھیجا ہو۔ ای میل میں دیئے گئے لِنک پر نہ جائیں۔ اس کی بجائے نئی براؤزر ونڈو یا ٹیب میں جا کر سٹور کے ہوم پیج کو وزٹ کریں۔

اسی طرح جن لوگوں کو آپ نہیں جانتے اُن کی طرف سے بھیجی جانے والی اٹیچمنٹس کو کبھی نہ کھولیں۔ آپ کو چاہیے اپنی ای میل میں کسی بھی ایسی سیٹنگ کو بند کر دیں جسے کے تحت خود کار طریقے سے اٹیچمنٹس خود بخود ڈاؤن لوڈ ہو جاتی ہیں۔

Illustration of person, lock and password symbols

پیچیدہ اور منفرد پاس ورڈ بنائیں

بیشتر ماہرین لاسٹ پاس، 1 پاس ورڈ یا کیپر جیسے پاس ورڈ مینیجر استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ جن سائٹوں پر آپ جاتے ہیں اُن کے لیے یہ پروگرام پیچیدہ قسم کے پاس ورڈ بناتے ہیں اور انہیں استعمال کرنا آسان بناتے ہیں۔

اگر آپ پاس ورڈ مینیجر استعامال نہیں کرتے تو انگریزی کے کیپیٹل [بڑے] اور سمال [چھوٹے] حروف کے علاوہ اعداد اور علامات کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ ایک ہی پاس ورڈ کو ایک سے زیادہ ویب سائٹ پر استعمال نہ کریں۔

Illustration of woman using smartphone

– نجی معلومات کی حفاظت کریں

کمپنیاں یا سرکاری ادارے آپ سے آپ کا پاس ورڈ نہیں پوچھتے۔ لہذا فون پر اپنا پاس ورڈ کسی کو نہ بتائیں۔ اگر آپ کو کوئی ایسی ای میل ملے جس میں لاگ اِن پیج دیا گیا ہو تو اس پر کلِک نہ کریں۔ اس کی بجائے اپنے براؤزر کے ذریعے اُسی ویب سائٹ پر جائیں اور وہاں سے لاگ اِن کریں۔

اگر کوئی کمپنی آپ سے غیر متوقع طور پر رابطہ کرے اور آپ سے نجی معلومات مہیا کرنے کا کہے تو اُسے اپنی معلومات ہرگز نہ دیں۔ فون بند کر دیں اور فون یا اُن کی ویب سائٹ کے ذریعے یہ تصدیق کرنے کے لیے کمپنی سے رابطہ کریں کہ کیا یہ درخواست واقعی اُس کمپنی کی طرف سے کی گئی ہے۔

Illustration of laptop and tablet

– جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کریں

اِس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے کمپیوٹر، فون اور ٹیبلٹس کے سافٹ ویئر جدید ترین ہیں۔ اس کے علاوہ، جب ممکن ہو تو دو سطحوں پر تصدیق کرنے والی سکیورٹی کی دونوں سطحیں استعمال کریں۔ اِس سوچ کی بنیاد، پاس ورڈ اور یوزر نیم مہیا کرنے سے آگے تک ہے اور اِس کے تحت یہ ضروری ہے کہ آپ، یعنی صرف آپ ہی تک معلومات پہنچیں۔

Illustration of hand holding smartphone with warning symbol

– غیرمعمولی سرگرمی پر نظر رکھیں

اگر آپ کے بنک اکاؤنٹ یا کریڈٹ کارڈ کی طرف سے ٹیکسٹ کی سہولت میسر ہے تو اسے استعمال میں لائیں۔ اس طریقے کے تحت اگر آپ کے اکاؤنٹ میں کوئی گڑبڑ کی جائے تو آپ کو اطلاع ہو جاتی ہے۔ اگر آپ اپنے ٹیکسٹ کے ذریعے خبردار کرنے کے پروگرام کو نہیں چلا سکتے تو آپ تواتر سے اپنی بنک سٹیٹمنٹ میں اُن رقومات کو دیکھیں جو آپ نے خرچ نہیں کیں۔

گرافکس از: Julia Maruszewski/ Doug Thompson/ State Departmen

حالیہ سائبر حملے

“وانا کرائی رینسم ویئر اٹیک” نے مئی میں اُس وقت دنیا بھر میں تباہی مچا دی جب ہیکروں نے اِس رینسم ویئر کو استعمال کرتے ہوئے 150 سے زائد ممالک میں دو لاکھ سے زیادہ کمپیوٹروں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ ہیکر اپنے سائبرحملوں کا شکار ہونے والوں کے کمپیوٹر اپنے کنٹرول میں لینے میں اس لیے کامیاب ہوئے کیونکہ لوگ مائیکروسافٹ آپریٹنگ سسٹم کی ایک پرانی شکل استعمال کر رہے تھے۔ ہیکروں نے کمپیوٹروں تک رسائی کے بدلے سینکڑوں ڈالر کے مطالبات کیے۔

جون میں کیے جانے والے ایک سائبر حملے کی زد میں یوکرین کی حکومتی اور کاروباری سائٹیں آئیں؛ آسٹریلیا کی ایک چاکلیٹ کمپنی بند ہوئی؛ اور ڈنمارک کی ایک بین الاقوامی جہازراں کمپنی کے کام میں خلل پڑا۔  

رینسم ویئر کیا ہے؟

رینسم ویئر ایک ایسا سوفٹ ویئر ہوتا ہے جو کسی کمپیوٹر کو اپنے کنٹرول میں لینے کے بعد اِس کی فائلوں کو اِنکرِپٹ یعنی خفیہ الفاظ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ہیکر استعمال کنندگان سے فائلوں تک رسائی کے بدلے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر استعمال کنندگان پیسے نہ دیں تو ہیکر فائلوں کو مٹا دیتے ہیں۔